نئی دہلی، 21؍دسمبر (آئی این ایس انڈیا) لکھیم پور کھیری تشدد کے سلسلے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے استعفیٰ اور کچھ دیگر مسائل پر منگل کو لوک سبھا میں کانگریس سمیت کچھ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ہنگامہ آرائی جاری رکھی۔دوپہر ڈھائی بجے کے قریب ایوان کی کارروائی ایک بار ملتوی کرنے کے بعد دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔حزب اختلاف کے ارکان کے ہنگامہ آرائی کے درمیان ایوان میں بچوں کی شادی پر پابندی (ترمیمی) بل 2021 پیش کیا گیا۔بہبودبرائے خواتین واطفال کی وزیر اسمرتی ایرانی نے اسے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز پیش کی۔ایک بار کے التوا کے بعد جب لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے پوڈیم کے قریب پہنچ گئے۔ صدارتی چیئرمین راجندر اگروال نے شور شرابے کے درمیان ضروری کاغذات ایوان کی میز پر رکھے۔ہنگامہ آرائی کے درمیان، مرکزی وزیربہبود برائے خواتین واطفال اسمرتی ایرانی نے ایوان میں بچوں کی شادی پر پابندی (ترمیمی) بل، 2021 پیش کیا۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے، بیجو جنتا دل، شیو سینا اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کو پیش کرنے کی مخالفت کی۔ اپوزیشن کے بیشتر ارکان نے الزام لگایا کہ بل جلد بازی میں لایا گیا اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔اپوزیشن اراکین کے نعرے بازی کے درمیان ایوان نے ’چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، کاسٹ اینڈ ورکس اکاؤنٹنٹس اینڈ کمپنی سیکریٹریز (ترمیمی) بل 2021‘ اسٹینڈنگ کمیٹی کے زیر غور لانے کی منظوری دے دی۔